Second Episode

کبھی کبھی انسان سوچتا ہے کہ وہ وقت کو اپنی مٹھی میں قید کرے۔۔۔
پھر حسبِ خواہش اس کو استعمال کرے۔۔۔مگر ایسا ہوتا نہیں۔۔۔دراصل وقت کی رفتار بہت تیز اور سبک ہوتی ہے۔۔۔شاید۔۔۔اسی لئے ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔۔۔اور یوں ہی صبح سے شام اور شام سے رات اور پھر رات کے بعد صبح ہوجاتی ہے۔۔۔اور بس زندگی یوں ہی بھاگتی رہتی ہے۔۔۔اور وقت کا تعاقب کرتی رہتی ہے۔۔۔یہی کچھ تنویر خضر کے ساتھ بھی ہورہا تھا۔۔۔وہ ڈاکٹر لبنیٰ کی تلاش میں د یوانوں کی طرح منہ میں سگریٹ دبائے، کھوئی کھوئی، سوچتی آنکھیں لئے اپنی دھن میں مگن سڑک کے کنارے کنارے چلا جارہا تھا کہ کافی دور چلنے کے بعد اس کو ایک ایکسائز کا دفتر نظر آیا۔۔۔اور اس کے قدم خودبہ خود دفتر کی جانب اُٹھتے چلے گئے۔۔۔جیسے ہی وہ دفتر میں داخل ہوا تو یکایک اس کی نظر اپنے ایک پرانے دوست جاوید پر پڑی۔۔۔
جسے وہ پیار سے جاوید بہاری کہا کرتا تھ ا۔۔۔
جاوید بہاری نے اچانک تنویر کو اپنے سامنے کھڑا پایا تو پہلے تو وہ اپنی حیران و پریشان نظروں سے تنویر کی طرف دیکھتا رہا۔۔۔پھر چند لمحوں بعد وہ اپنی کرسی سے اٹھ کر بڑی گرم جوشی کے ساتھ بغل گیر ہوتے ہوئے بولا۔۔۔ارے میرے یار بڑے سالوں کے بعد درشن کروارہے ہو، اور سناؤ، کہاں رہے۔۔۔
تنویر اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔بس دوست تمہاری یاد آئی اور ہم تم سے ملنے چلے آئے۔۔۔
جاوید بہاری نے برجستہ پوچھا۔۔۔بائی دی وے لنڈن سے کب آئے۔۔۔
تنویر نے مسکراتے ہوئے جواب میں کہا۔۔۔یہی کوئی ماہ دو ماہ ہوگئے۔۔۔
اور جناب نے آ ج صورت دکھائی ہے! جاوید بہاری نے طنزیہ کہا۔۔۔
تنویر نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے اور اپنے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے کہا۔۔۔تم تو جانتے ہی ہو کہ ہم جیسے لوگ کتنے مطلبی ہوتے ہیں۔۔۔
لیکن میں یہ جانتا ہوں تنویر کہ تم ان لوگوں میں سے نہیں!۔۔۔جاوید بہاری نے بڑے اعتماد کے ساتھ کہا۔۔۔
آخر تم یہ بات اتنے وثوق سے کیوں کہہ رہے ہو۔۔۔تنویر نے پوچھا۔۔۔
جاوید بہاری نے تنویر کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔وہ اس لئے کہ تم جو حرکتیں کرتے ہو اس میں تمہارا قصور نہیں، قصور اس فن کا ہے، جس فن سے تم منسلک ہو، دراصل یہ آرٹ کی دنیا کا مزہ ہی کچھ اور ہے، جو شخص بھی اس دنیا میں داخل ہوا۔۔۔وہ اپنی دنیا سے باہر نہیں آتا، اور پھر رات کو دن اور دن کو رات بنادیتا ہے، اب آپ ٹھہرے ایک کمرشل آرٹسٹ، اب تم سے کیا شکوہ کرے کوئی۔۔۔
تنویر ہنستے ہوئے بولا۔۔۔جاوید بہاری صاحب یہی تو ایک راز ہے ہم دونوں کی دوستی کا جو اب تک قائم ہے۔۔۔
کیا مطلب، جاوید بہاری نے ذرا حیرت سے پوچھا۔۔۔
مطلب یہی کہ تم میری نیچر کو بخوبی سمجھتے ہو اور پھر دونوں ملکر زور زور سے ہنسنے لگے۔۔۔ہنستے ہنستے جاوید بہاری نے اپنے اسسٹنٹ سے کہا۔۔۔
طاہر صاحب ذرا چائے وغیرہ تو پلادیں، دیکھئے ہمارے کتنے پرانے دوست ہم سے ملنے آئے ہیں، یہ ہمارے ملک کے مشہور و معروف آرٹسٹ تنویر خضر صاحب ہیں۔۔۔
طاہر اپنے باس سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا۔۔۔سر میں ان کا نام اور کام کئی بڑے بڑے میگزینوں میں دیکھ چکا ہوں، یہ وہ عظیم شخصیت ہیں جن کی فنکارانہ صلاحیتیں (یعنی) آڑی ٹیڑی لکیریں اس نفسا نفسی کے دور میں بھی ہمارے جیسے تھکے ہوئے ذہنوں کو پل بھر کے لئے وہ تازگی بخشتی ہیں، جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔۔۔
جاوید بہاری نے نظر بھر کر طاہر کی طرف دیکھا۔۔۔اور وہ چونک کر بولا۔۔۔
سوری سر، میں چائے لیکر آتا ہوں۔۔۔یہ کہہ کر وہ چائے لینے کیلئے کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔اور جاوید بہاری، تنویر سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا۔۔۔یار تنویر تم کن گہری سوچوں میں گم ہوگئے۔۔۔
جاوید، میں سوچ رہا ہوں کہ اس معمولی سی کرسی پر بیٹھنے والا، یہ شخص کتنا ذہین ہے، مگر افسوس کہ اس معاشرے میں اس کی کوئی قدر نہیں، جاوید اگر ہم نے ان باصلاحیت ذہنوں کی قدر نہ کی تو ایک نہ ایک دن ہم پھر سے غلام بن جائیں گے، لہٰذا ہمیں اپنی سوچ اور نظام کو بدلنا ہو گا۔۔۔تنویر نے جاوید بہاری سے گفتگو کرتے ہوئے کہ ا۔۔۔
جاوید بہاری،تنویر کی بات کا جواب دیتے ہوئے بولا ۔۔۔ایک تو میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ آخر یہ فنکار لوگ اتنی حساس طبیعت کے مالک کیوں ہوتے ہیں؟ جو ذرا سی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں، آخر تنویر ، ہمارا شمار بھی تو انسانوں میں ہوتا ہے، اور اسی معاشرے میں رہتے ہیں ہم بھی، میرے یار اگر ہر ا نسان تمہاری طرح لوگوں کے متعلق سوچنا شروع کردے تو وہ یقیناًپاگل ہو کر رہ جائے گا۔۔۔
تنویر خضر نے بڑی لاپروائی سے کہا۔۔۔اگر اﷲ تعالیٰ کی مخلوق کے بارے میں سوچنا پاگل پن ہے تو، واقعی میں ایک پاگل انسان ہوں، اُٹھاؤ اپنے ہاتھوں میں سنگ اور برساؤ مجھ پر۔۔۔
جاوید بہاری نے بڑے ہی دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔میں جانتا ہوں تنویر کہ تمہارے پاس ذہانت کی کوئی کمی نہیں، جبکہ تم بہترین قوت ارادی کے مالک ہو، لیکن ، مزاج میں تیزی کی وجہ سے اپنی مرضی کے خلاف ہونے والی کوئی بات برداشت نہیں کرتے، اور یہ تمہاری پرانی عادت ہے، اگر تم اپنے آپ کو انسانوں کے اس جنگل میں زندہ دیکھنا چاہتے ہو تو تمہیں اپنی بہت سی عادتوں کو بدلنا ہو گا۔۔۔
کیونکہ اس جنگل میں ایک سے بڑھ کر ایک بھیڑیا موجود ہے، آخر تم کس کس بھیڑئیے کے گریبان پر ہاتھ ڈالو گے؟۔۔۔
تنویر اپنے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ لاتے ہوئے بولا۔۔۔دوست تم ٹھیک ہی کہہ رہے ہو، کیونکہ اس میں قصور تمہارا بھی نہیں، اور میرا بھی نہیں، دراصل قصور اس نظام کا ہے جو اس معاشرے کا ایک حصہ بن چکا ہے۔۔۔
اسی دوران طاہر چائے لیکر کمرے میں داخل ہوا۔۔۔اور چائے کی پیالیاں تنویر اورجاوید صاحب کے سامنے رکھتے ہوئے ادب سے کہا سر چائے حاضر ہے اور پھر اپنی کرسی پر بیٹھ کر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔۔۔اور جاوید اپنے دوست تنویر سے مخاطب ہوا ۔۔۔چھوڑو یار اس بحث کو اور گرم گرم چائے پیو۔۔۔اور چائے کی چسکی لیتے ہوئے بولا اور سناؤ تنویر کیا خدمت کروں آپ کی۔۔۔تنویر اپنے منہ میں سگریٹ دبائے، جیب سے ایک کاغذ کا ٹکڑا نکال کر جاوید کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔۔۔یہ ایک گاڑی کا نمبر ہے، ذرا چیک کرکے بتائیے کہ یہ گاڑی کس کے نام پر ہے اور ہاں اس کے مالک کا مکمل پتہ بھی چاہیئے۔۔۔
جاوید، تنویر کے ہاتھ سے کاغذ کا ٹکڑا لیکر غور سے گاڑی کا نمبر دیکھتے ہوئے اپنے اسسٹنٹ کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔۔۔سنو طاہر، یہ لو نمبر ذرا فائل چیک کرکے مجھے مکمل تفصیل لا کر دو۔۔۔
طاہر اپنے آفیسر سے نمبر لے کر ایک نظر د یکھ کر بہت ساری فائلوں میں سے ایک فائل نکال کر جاوید صاحب کو دیتے ہوئے بولا، یہ لیجئے سر اور جاوید فائل کو غور سے دیکھتے ہوئے تنویر سے مخاطب ہوا۔۔۔یار یہ گاڑی تو کسی لیڈی ڈاکٹر لبنیٰ کے نام ہے، کہیں یہ محترمہ کوئی واردات وغیرہ کرکے تونہیں بھاگیں۔۔۔یا پھر جناب کی؟۔۔۔
تنویر فوراً جاوید کی بات کو کاٹتے ہوئے بولا۔۔۔ارے بھائی یہ سب کچھ پہلے اچھا لگتا تھا لیکن۔۔۔
لیکن کیا۔۔۔جاویدبہاری نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
اور تنویر مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔مطلب یہ کہ یہ سب کچھ وقت اور عمر کے ساتھ اچھا لگتا ہے۔۔۔
نہیں یار نہیں، ابھی تم اتنے بوڑھے بھی نہیں ہوئے ہو، لوگوں کے اتنے ہجوم میں بھی تم اپنے آپ کو خوامخواہ تنہا محسوس کیوں کرتے ہو، اور یہی وجہ ہے کہ تم اپنی ہی ذات کے خول میں بند ہو کر رہ گئے ہو، یار تم جوان ہو اسمارٹ ، میری مانو اپنا گھر بسالو، ورنہ لوگ تمہیں ایک مغرور، خود پسند اور پتا نہیں کیا کیا کہیں گے۔۔۔جاوید بہاری نے تنویر کو سمجھاتے ہوئے کہا اور تنویر بات کو مذاق میں اُڑاتے ہوئے بولا۔۔۔بسالیں گے یار، گھر بھی بسالیں گے، فی الحال آپ یہ پتہ نوٹ کرکے مجھے دیجئے۔۔۔
جاوید نے فائل سے پتہ نوٹ کرکے تنویر کو د یا۔۔۔اور تنویر نے جاوید کے ہاتھ سے کاغذ لیکر ایک نظر غور سے دیکھا اور پرچہ اپنی جیب میں رکھتے ہوئے بولا۔۔۔شکریہ جاوید بہاری صاحب، بہت بہت شکریہ، اب میں چلتا ہوں، پھر کسی وقت حاضر ہوں گا۔۔۔
یار تنویر بس تمہاری یہی عادت مجھے ناپسند ہے، جہاں اپنا مطلب پورا ہوا اور چل دیئے جناب۔۔۔جاوید نے نا گواری سے کہا۔۔۔
اور تنویر ہنستے ہوئے بولا۔۔۔ارے میرے بھائی اس میں ناراض ہونے کی کون سی بات ہے، میں تو تمہیں پہلے ہی بتاچکا ہوں کہ ہم جیسے لوگ بڑے مطلبی ہوتے ہیں۔
وہ تو ہم تمہیں بچپن ہی سے جانتے ہیں۔۔۔جاوید نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
تو پھر برداشت کرو، اب میں چلتا ہوں ، او کے خدا حاف٭۔۔۔اور پھر جاوید بہاری کے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔
طاہر اپنے آفیسر جاوید سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا۔۔۔معذرت کے ساتھ سر۔۔۔یوں تو آپ کے دوست تنویر صاحب ایک مقبول آرٹسٹ ہیں اور قابل بھی ہیں، اور اپنے فن کو اچھی طرح سمجھتے بھی ہیں لیکن شکل و صورت سے کافی مغرور نظر آتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک قابل اور ذہین شخصیت ہیں، کیونکہ ذہانت اور قابلیت ان کے چہرے سے عیاں ہوتی ہے۔
جاوید اپنے اسسٹنٹ کی بات کا جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔یہ قابلیت و ذہانت دراصل انسان کو مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچا دیتی ہے اور یہی شہرت جب انسان کا مقدر بنتی ہے تو اس کی شخصیت میں مزید حسن پیدا ہوجاتا ہے، اور جس انسان کو حسن مل جائے تو وہ خودبخود دلچسپی کا مرکز بنتا چلا جاتا ہے۔
کلرک فہیم نے درمیان میں لقمہ دیا۔۔۔آپ ٹھیک فرمارہے ہیں سر، ایک ہم ہیں کہ عمر گزر گئی نوکری کرتے کرتے مگر اپنی مقبولیت وہی ایک لکرکی ہی رہی، جبکہ ریٹائرمنٹ کے قریب ہوچلے۔
ادھر سے مدثر نے ذرا طنزیہ انداز میں کہا۔۔۔ریٹائرمنٹ کے بعد وہ بھی نہیں رہے گی فہیم صاحب، دراصل مقبولیت کی منزلوں تک پہنچنے کیلئے انسان کو بہت کچھ کھونا پڑتا ہے، کیا آپ نے کچھ کھویا؟
فہیم اپنے باس جاوید سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا۔۔۔لیجئے سر مدثر صاحب نے تو اپنی سائیکالوجی کا استعمال شروع کردیا، لہٰذا اب اپنی خاموشی ہی بہتر ہے۔۔۔
جاوید بہاری اپنی عینک کے شیشوں میں سے گھورتے ہوئے بولے۔۔۔آپ دونوں کے لئے بہتر ہے کہ خاموشی سے بیٹھ کر کام کیجئے۔
اور وہ دونوں ا پنے آفیسر کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے۔
تنویر خضر ایکسائز آفس سے خوشی خوشی باہر نکلا۔۔۔اور شہر کے مختلف راستوں اور سڑکوں پر چلتا ہوا۔۔۔اپنی ہی دھن میں، مسکراتا ہوا۔۔۔سگریٹ پیتا ہوا۔۔۔دھوئیں کے گولے بناتا ہوا۔۔۔کچھ گنگناتا ہوا۔۔۔بغیر کسی کام کے گردش کرتا ہوا۔۔۔اب کسی کو کیا پتا کہ وہ کس کی تلاش کررہا ہے۔۔۔ہر گلی سے بازار سے سڑک سے گزرتے وقت یہی خیال اس کے ذہن میں رہتا ہے کہ شاید کسی نہ کسی موڑ پر وہ مل جائے جس کی اسے تلاش تھی۔۔۔
بس یہی سوچتا ہوا وہ ایک پُر رونق بازار سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک زوردار بم کے دھماکے کی آواز اس کے کانوں کے پردے پھاڑتی ہوئی۔۔۔اس کا دل دہلاتی ہوئی سنائی دی۔۔۔اس کے دل و دماغ میں ایک ارتعاش سا پیدا ہو گیا۔۔۔اس نے دل میں سوچا کہ شاید کوئی بم پھٹا ہے۔۔۔خدا خیر کرے۔۔۔
لوگ اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔۔۔بس ہر شخص ادھر سے اُدھر بھاگ دوڑ میں لگا ہوا تھا۔۔۔ہر طرف سے چیخ و پکار کی آوازوں کا شور فضا میں بلند ہورہا تھا۔۔۔ایک افراتفری کا عالم تھا۔۔۔خون میں لت پت لاشیں دیکھ کر تنویر کی آنکھوں سے پانی بہنے لگا۔۔۔یکایک ایک کہرام سا مچ گیا۔۔۔زخمیوں کی چیخ و پکار سے زمین آسمان ہل سا گیا۔۔۔نہ جانے کتنے ہی لوگ زخمی ہوئے اور خدا جانے کتنے ہلاک۔۔۔
وہ سوچ رہا تھا کہ ان بے قصوروں کا کیا قصور۔۔۔ان کی بے گوروکفن لاشیں اس سے التجائیں کررہی تھیں۔۔۔تنویر ان سفاک قاتلوں کو ڈھونڈ نکالو جنہوں نے اس خوبصورت شہر کو خون کی ہولی سے رنگ دیا ہے۔۔۔جو ہر روز نہ جانے کتنے ہی لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔۔۔آخر اس پیارے وطن کی مٹی سے جنم لینے والے اس ملک کو تباہ کرنے کے درپے کیوں ہو گئے؟۔۔۔
آج ہمارے یہی ہاتھ ہمارے جسموں کو کاٹ کاٹ کر پھینک رہے ہیں۔۔۔اور موت کا بھیانک کھیل، کھیل رہے ہیں۔۔۔
وہ ابھی اپنی ہی سوچوں میں گم تھا کہ اچانک ایک بارہ تیرا سال کا بچہ تنویر کے پاس آکر کھڑا ہوا۔۔۔بچہ خوف و دہشت سے بُری طرح کانپ رہا تھا۔۔۔اُس کے بازو سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔تنویر نے پوچھا۔۔۔یہ دھماکا کیسے ہوا؟۔۔۔
پھر اچانک تنویر کی نظر اس کے بازو پر پڑی۔۔۔ارے تمہارا بازو تو بُری طرح زخمی ہو گیا۔۔۔
صاحب مارکیٹ میں بم کا بڑا زبردست دھماکا ہوا ہے، اور بہت سے زخمی ہوئے ہیں، شاید کچھ لوگ تو مر بھی گئے۔۔۔بچے نے بتایا۔
آؤ تم میرے ساتھ، میں تمہاری مرہم پٹی کرواکر تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *