Fourth Episode

(قسط نمبر4)

تنویر جب رات گئے گھر میں داخل ہوا تو اس کی چھوٹی بہن خضرا جاگ رہی تھی۔۔۔تنویر پر جیسے ہی اس کی نظر پڑی تو وہ فوراً دوڑتی ہوئی اس کی طرف بڑھتے ہوئے بڑی فکرمندی سے بولی۔۔۔اتنی دیر کہاں رہے بھیا آپ؟، آپ کی وجہ سے امی جان کافی فکرمند ہورہی تھیں۔۔۔تنویر استہزائیہ ہنسا۔۔۔کیا انہیں بھی فکر ہے میری۔۔۔میں تو ویسے بھی اکثر ملک سے باہر رہتا ہوں۔
اور پھر فریج سے پانی کی بوتل نکال کر منہ سے لگائی۔۔۔خضرا ، تنویر کے اس باغی انداز پر قدرے چونک گئی۔۔۔ایسی باتیں مت کیجئے بھیا، وہ واقعی بہت پریشان تھیں، آخر آپ اتنی رات تک باہر کیوں رہتے ہیں، آج کل یہاں کے حا لات پہلے ہی بہت خراب ہیں، خضرا نے بہت پر خلوص انداز میں کہا۔۔۔
میری پیاری سی ، چھوٹی سی، منی سی بہن، اب تو ہی بتا میں اور کیا کروں خالی بیٹھے بی ٹھے، چھٹیاں گزارنے آیا ہوں، اس لئے دوستوں میں چلا جاتا ہوں، اب آئی آپ کی عقل شریف میں، موٹی عقل ، تنویر نے مذاق میں کہا۔۔۔
خضرا چڑتے ہوئے بولی۔۔۔اگر میں موٹی عقل والی ہوتی تو آج یونیورسٹی میں نہ پڑھ رہی ہوتی۔
ہاں وہ تو مجھے معلوم ہے کہ تم کتنی ذہین ہو، ہر وقت دوپٹہ پر پھول پتیاں کاڑھنے کی بجائے سوالات چھاپتی رہتی ہو۔۔۔۔تنویر نے لاپرواہی سے کہا۔
مجھے بھی سب معلوم ہے بھیا، دھول میں لٹ مارتے ہوئے کہ ا۔۔۔
تنویر نے حیرت سے پوچھا کیا معلوم ہے۔۔۔
یہی جب انسان کا پیٹ خالی ہو تو اس کا دماغ یوں ہی چکرا نے لگتا ہے، خضرا نے بھی بات ہوا میں اُڑاتے ہوئے کہا۔۔۔
تنویر نے تعجب بھری نظروں سے خضرا کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔کیا مطلب، کیا میں بھوکا ہوں۔
آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ آپ کی چھوٹی سی، منی سی، یہ بہن نفسیات میں ایم اے کررہی ہے جناب۔
چہرہ دیکھ کر ہی بتاسکتی ہوں کہ کوئی کیا چاہتا ہے! ویسے بھی بھوکے کو کھانا کھلانا ثواب ہوتا ہے بھیا۔۔۔یہ کہتی ہوئی وہ باورچی خانے کی طرف بڑھی اور کچھ دیر بعد گرم گرم کھانا میز پر رکھتے ہوئے بولی۔۔۔کھانا حاضر ہے بھیا۔
واہ! کیا بات ہے آپ کے ہ اتھوں کے پکے ہوئے کھانوں کی، بندہ کھانا کھا کر اگر صحیح سلامت رہے تو میں ضرور کھاؤں گا، ویسے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ابھی میرا اس دنیا سے کوچ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، لہٰذا آپ اپنی بنائی ہوئی چیزیں خود کھائیں تو بہتر ہو گا۔۔۔یہ کہتے ہوئے تنویر نے مذاق میں سالن کی ڈش پرے کھسکا دی۔۔۔خضرا نے جل کر جواب میں کہا۔۔۔مت کھاؤ، خود ہی جب پیٹ میں چوہے دوڑیں گے نا تو پتا لگ جائے گا، چوروں کی طرح آدھی آدھی راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر کھانا آپ کی عادت بن گئی ہے۔
تنویر بہن کی اس ادا پر ہنس پڑا۔۔۔اور ڈش اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولا۔۔۔چوہے تو اب بھی دوڑ رہے ہیں مگر خیر تم بھی کیا یاد کرو گی کس حاتم طائی سے پالا پڑا ہے، آج تمہارے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا چکھ ہی لیتے ہیں۔
اور وہ کھانا کھانے میں مصروف ہو گیا۔۔۔آج تو واقعی تم نے کمال کردیا۔۔۔اور پھر پانی کا گلاس غٹاغٹ چڑھاتے ہوئے بولا۔۔۔اچھا ایمانداری سے یہ بتاؤ کہ آج کھانا کس نے بنایا ہے؟
خضرا نے ایک بار پھر جل کر نیم غصہ سے کہا۔۔۔آپ کی ہوتی سوتی نے۔۔۔اور سلگتی نظروں سے تنویر کی طرف دیکھا۔۔۔اور کھانے کے برتن سمیٹنے لگی۔۔۔تنویر نے فوراً مسکراتے ہوئے خضرا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔۔۔واقعی خضرا تمہارے ہاتھوں میں بڑی لذت ہے، سسرال جا کر تو ساس کی آنکھوں کا تارا بن کر رہو گی۔۔۔
اس نے فوراً تنویر کو ٹوک دیا۔۔۔اچھا اچھا اب زیادہ باتیں مت بناؤ، بلکہ احسان مانو کہ بھوکا رہنے سے بچالیا۔۔۔یہ کہتی ہوئی برتن اُٹھا کر وہ باورچی خانے کی طرف چلی گئی۔۔۔اور تنویر نے سگریٹ سلگاتے ہوئے قدرے بڑبڑاہٹ کے انداز میں کچھ کہہ کر مسکرایا ۔۔۔
اتنے میں امی جان تنویر کے قریب آتے ہوئے بولیں۔۔۔آگئے نواب صاحب، ارے بیٹا تمہاری شکل د یکھنے کو ہماری آنکھیں ترس جاتی ہیں، آخر تم سارا سارا دن کہاں غائب رہتے ہو؟ جب تم نظروں سے دور ہوتے ہو تو دل ہولتا رہتا ہے، حالات اتنے خراب ہیں اور تم آدھی رات سے پہلے گھر نہیں آتے۔
تنویر والدہ صاحبہ کے قدموں میں بیٹھتے ہوئے ان سے مخاطب ہوا۔۔۔میری پیاری ، پیاری امی جان، آپ تو خواہ مخواہ پریشان ہوجاتی ہیں، اب میں کوئی بچہ تو نہیں، جو گھر بھول جاؤں گا۔
بیٹا تم ملک سے باہر رہتے ہو، تمہیں یہاں حالات کا کچھ پتہ نہیں، یہاں تو پھل بھر میں کیا سے کیا ہوجاتا ہے، یہاں شہر کے حالات دن بہ دن کچھ زیادہ ہی خراب ہوتے جارہے ہیں، آئے دن کی فائرنگ، قتل و غارت گری سے سارا شہر پریشان ہے تو پھر میں تو ایک ماں ہوں بیٹا۔۔۔والدہ نے تنویر کو سمجھاتے ہوئے کہا۔۔۔
تنویر افسردگی کے ساتھ بولا۔۔۔ہاں امی جان آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ، وقت اور حالات نے ہمیں اتنا بزدل بنادیا ہے کہ ہمیں اپنے آپ سے بھی ڈر لگتا ہے، ہم اپنے وطن کی حفاظت کرنے کی بجائے اپنے ہی ہاتھوں سے اس کو تباہ و برباد کرنے کے درپے ہیں، آخر دہشت گردی کرتے وقت یا گولیاں برساتے یہ بے ضمیر لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اس سوہنی دھرتی کو حاصل کرنے کیلئے ہمارے بزرگوں نے ہزاروں لاکھوں انسانوں کے خون کا نذرانہ دیا ہے، امی جان، یہاں مارنے والے کو یہ نہیں پتہ کہ میں کیوں مار رہا ہوں ، اور مرنے والے کو یہ نہیں معلوم کہ میں کیوں مررہا ہوں۔ والدہ صاحبہ نے شفقت سے تنویر کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے افسردہ لہجے میں کہا۔۔۔بیٹا اس ملک کو تباہ کرنے والے کوئی غیر نہیں، بلکہ اپنے ہی وطن کی مٹی سے جنم لینے والے ہیں۔
تنویر نے پیار سے ماں کی گود میں اپنا سر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *