First Episode

انسان پیدائشی طور پر معصوم ہوتا ہے۔۔۔ جیسے جیسے وہ ہوش سنبھالتا ہے۔۔۔اپنے گردوپیش سے رفتہ رفتہ آگاہ ہوتا ہے اور اس کے بعد معاشرے کا ایک فرد بن جاتا ہے۔۔۔اس کے بعد معاشرہ اسے کیا مقام دیتا ہے اور وہ کیا مجبوریاں ہوتی ہیں جن سے وہ چاہتے ہوئے بھی صرف نظر نہیں کرسکتا۔
زیر نظر ناول بھی اس معاشرے کا قصہ ہے۔ جہاں ملت فروش، موت کے سوداگر، تخریب کار، دولت مند، سبھی اپنا اپنا راگ الاپ رہے ہیں۔ ملک دھماکوں اوتخریب کاروں کی زد میں، اور ملت شدید خوف اور بے چینی کے عالم میں ہے۔
جہاں فاضل مصنف نے ان خون آشام درندوں کے مناظر کو خوبصورتی سے قلمبند کیا۔۔۔وہیں اس میں محبت کی دل گدازیاں بھی ہیں اور مردہ ضمیروں کے ضمیر جاگنے کا افسانہ بھی ۔۔۔اور وطن سے محبت کا دل نشین سبق بھی ہے۔
*******

بلوتھری پیس،۔۔۔لائٹ گرے شرٹ،۔۔۔میرون ٹائی۔۔۔پر گورا رنگ بہار دکھارہا تھا،۔۔۔سبز آنکھیں کھیل رہی تھی،۔۔۔کلین شیو،۔۔۔زلفیں پرسیان،۔۔۔بڑا اسمارٹ سا ا نسان تنویر خضر سگریٹ پیتا ہوا۔۔۔اپنی ہی دھن میں مگن،۔۔۔طویل راستوں،۔۔۔گلیوں اور بازاروں سے گزرتا ہوا چلا جارہا تھا، جیسے خود بھی اسے منزل کا کچھ پتہ نہیں۔۔۔!
ایک طویل سفر طے کرنے کے بعد یکایک اس کی نظر ڈاکٹر لبنیٰ پر پڑی۔۔۔گو کہ تنویر ابھی لبنیٰ سے کچھ فاصلے پر تھا۔۔۔
ڈاکٹر لبنیٰ ایک شاپنگ سینٹر سے کچھ خریداری کرکے باہر آرہی تھی۔۔۔اس کے چہرے پر کھلی زلفیں ہوا کے دوش پر دائیں بائیں کروٹیں بدل رہی تھیں۔۔۔تنویر، لبنیٰ کو دیکھ کر ٹھٹھک سا گیا۔۔۔
ابھی لبنیٰ اپنی کار کے پاس پہنچی ہی تھی کہ قریب سے گزرنے والی گاڑی نے تنویر کو چونکا دیا۔۔۔اور پھر تنویر نے ایک لمبا سا سگریٹ کا کش لیتے ہوئے مشکوک انداز سے ڈاکٹر لبنیٰ کی طرف دیکھا۔۔۔
لیکن لبنیٰ کی نظر تنویر کو نہ دیکھ پائی۔۔۔اور وہ تیزی سے کار میں بیٹھ گئی۔۔۔تنویر نے فوراً اپنی نظروں کا رخ گاڑی کی نمبر پلیٹ کی طرف موڑ دیا۔۔۔اور گاڑی کا نمبر اپنی آنکھوں کے ذر یعے اپنے ذہن میں نقش کرلیا۔۔۔اور گاڑی آہستہ آہستہ آگے کی طرف بڑھتی چلی گئی۔۔۔
تنویر اپنے اُسی انداز میں سڑکوں اور بازاروں کے راستوں پر چل پڑا۔۔۔پسینے کے قطرے اس کی پیشانی پر ابھر رہے تھے۔
*******
شام گہری ہو کر رات میں تبدیل ہونے والی تھی۔۔۔لبنیٰ کا بنگلہ روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔۔۔پورے گھر پر رنگ برنگے قمقمے روشن تھے۔۔۔گھر میں ہر طرف لڑکیوں کا شور سا مچا ہوا تھا۔۔۔جیسے ہی لبنیٰ کی گاڑی گھر کے گیٹ میں داخل ہوئی تو لبنیٰ کی خالہ زاد بہن صفیہ تیزی سے اس کی طرف لپکی۔۔۔اور گاڑی میں رکھی ہوئی چیزوں کو اُٹھاتے ہوئے لبنیٰ سے مخاطب ہوئی۔۔۔’’لبنیٰ باجی آپ کہاں رہ گئیں تھیں!، یہاں تو آپ کے بغیر سارے کام نامکمل ہیں‘‘۔
لبنیٰ اپنی زلفوں کو سنوارتے ہوئے بولی۔۔۔’’ارے صفیہ کی بچی یہاں تو کام کرتے کرتے سارا جسم ٹوٹ گیا، اور کام ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے‘‘۔۔۔صفیہ نے جواب دیا۔۔۔کام ختم کیسے ہوں؟، تمام ذمہ داریاں تو آپ نے اپنے سر لے رکھی ہیں۔۔۔کاش! انکل ٹرین کے حادثے میں جاں بحق نہ ہوتے تو آج وہ تمہیں د یکھ کر کتنا خوش ہوتے۔
’’ہاں صفیہ، اس وقت مجھے ابو جان کی یاد نے ہی تو بے جان کر رکھا ہے، آج شدت سے ابو جان کی کمی کا احساس ہورہا ہے‘‘۔
صفیہ سے بات کرتے ہوئے لبنیٰ کے چہرے پر اداسی سی آگئی۔۔۔اور اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔۔۔صفیہ اس کو سمجھاتے ہوئے بولی۔۔۔لبنیٰ باجی لیں خوشی کے موقع پر اس طرح آنسو نہیں بہاتے، لوگ دیکھیں گے تو کیا کہیں گے؟‘‘
چلئے اب آپ جلدی سے تیار ہوجائیے، کیونکہ بارات کے آنے کا وقت ہورہا ہے، کیا آپ صبح سے اکیلی گھن چکر بنی ہوئی ہیں‘‘
’’تم ٹھیک کہہ رہی ہو صفیہ، کاش ہمارا بھی کوئی بھائی ہوتا‘‘۔۔۔لبنیٰ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔۔۔اور صفیہ نے ذرا لاپرواہی سے جواب دیا۔۔۔’’اب اس میں انکل کا کیا قصور؟، یہ تو بس اﷲ کی دِین ہے‘‘۔
لبنیٰ نے فوراً صفیہ کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔’’اب یہاں کھڑی کھڑی طوطے کی طرح ٹیں ٹیں کرتی رہو گی یا مجھے تیاربھی ہونے دو گی، جاؤ۔۔۔ذرا امی سے معلوم کرو، کوئی کام باقی تو نہیں رہا۔۔۔
اور صفیہ ہنستی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی۔۔۔لبنیٰ اپنے کپڑوں پر استری کرنے لگی۔۔۔آنٹی فرمارہی ہیں کہ پھولوں کی پتیاں باقی رہ گئیں ہیں!!
لبنیٰ نے حیرانی سے پوچھا۔۔۔وہ کس لئے؟
صفیہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔وہ اس لئے کہ تمام لڑکیاں برات کی آمد پر پھولوں کی پتیاں برسا کر آنے والے براتیوں کا استقبال کریں گی۔
لبنیٰ نے ناگواری سے کہا۔۔۔اب اس کی کیا ضرورت ہے!
بس آنٹی کا حکم ہے۔۔۔صفیہ نے لاپرواہی سے جواب دیا۔۔۔
امی بھی عجیب ہیں، تھوڑی دیر پہلے تو براتیوں کیلئے ہار پھول آئے تو ا نہوں نے فضول خرچی کا طعنہ دے دیا، اب پھولوں کی پتیاں برسانا کہاں کی کفایت شعاری ہے؟
لبنیٰ کی باتوں پر صفیہ منہ دبا کر ہنسنے لگی۔۔۔لبنیٰ نے صفیہ سے پوچھا۔۔۔اب تم یہاں کھڑی کھڑی کیوں ہنس رہی ہو؟
میں تو یہ سوچ سوچ کر ہنس رہی ہوں کہ آپ اتنی کفایت شعار کب سے ہو گئیں۔
لبنیٰ اپنا پرس کھولتے ہوئے بولی۔۔۔اب زیادہ باتیں نہ بناؤ اوریہ لو پیسے اور ننھے بھائی سے کہو کہ وہ پھولوں کی پتیاں لے آئیں۔
صفیہ پیسے لے کر باہر آئی اور ننھے بھائی کو ادھر اُدھر تلاش کرنے لگی۔۔۔
اس وقت گھر میں بڑی رونق ہورہی تھی۔۔۔گھر کا ہر فرد خوش نظر آرہا تھا۔۔۔اور سکھیاں دلہن کے کمرے میں ڈھولک گیت گارہی تھیں۔۔۔
اور کچھ دلہن کے ہاتھوں پر مہندی سے بیل بوٹے بناتے ہوئے اس سے ہنسی مذاق کررہی تھیں۔۔۔
اوراسی دوران لبنیٰ تیار ہو کر دلہن کے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔تو ہر نظر اسے والہانہ انداز سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
آتشیں رنگ کی پرنٹڈ مہین شیفون کی خوب گھیر دار کامدار پشواز۔۔۔اور چوڑی دار پا جامہ۔۔۔سلیقے سے اوڑھا گیا کامدار ٹیشو کا بڑا سا دوپٹہ۔۔۔لمبی چوٹی ناگن کی طرح پتلی کمر پر لہرارہی تھی۔۔۔اور بالوں میں سوٹ سے ہم رنگ پراندہ۔۔۔
اس پر لائٹ میک اَپ اور ساتھ موتیے کے زیورات۔۔۔پھولوں کے گجرے۔۔۔جیسے جنت کی حور زمین پر جلوہ افروز ہو۔۔۔
اور وہ دلفریب تبسم لبوں پر سجائے دلہن کی جانب بڑھی تو اس کی نظروں کے سامنے اس کی چھوٹی بہن دلہن بنی بیٹھی تھی۔۔۔
لبنیٰ اپنی چھوٹی بہن کو دلہن کے روپ میں دیکھ کر اپنے سارے غم سارے دکھ بھول گئی۔۔۔اور وہ مختلف لڑکیوں کے درمیان سے ہوتی ہوئی شازیہ کے قریب آئی۔۔۔اور شازیہ کا گھونگھٹ اُٹھا کر دیکھا تو شازیہ دلہن کے روپ میں بڑی حسین و دلکش نظر آرہی تھی۔۔۔اس وقت اس کے چہرے پر پھولوں جیسی تازگی اور ملائمت پھیلی ہوئی تھی۔۔۔
ابھی لبنیٰ حسرت و یاس کی تصویر بنی شازیہ کے چہرے کو دیکھ رہی تھی کہ اتنے میں بارات کے آنے کا شور ہوگیا اور ساری لڑکیاں دلہن کے کمرے سے نکل کر بارات دیکھنے کی غرض سے باہر چلی گئیں۔۔۔
بس ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ناچتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔۔۔اور باہر لبنیٰ کے خالو جان نکاح کے فرائض انجام دینے میں مصروف تھے۔۔۔
اور پھر کچھ ہی دیر بعد پورے گھر میں مبارک، مبارک کی آوازیں گونجنے لگیں۔۔۔چند لمحوں بعد خالو جان خوشی خوشی دلہن کے کمرے میں آئے اور لبنیٰ کو گلے لگاتے ہوئے بولے۔۔۔لبنیٰ بیٹی مبارک ہو، اﷲ کا بڑا احسان ہے کہ اس کی ذات نے کرم کیا اور تمام کام نہایت خوش اسلوبی سے پورے کردیئے، بیٹی تم نے تو مرحوم عسکری کے بیٹے نہ ہونے کی کمی کو پورا کردکھایا۔۔۔
خالو جان آج ابو کی کمی بڑی شدت سے محسوس ہورہی ہے۔
کاش! ابوجان زندہ ہوتے تو یہ بوجھ تنہا میرے کندھوں پر نہ ہوتا، خالو جان آپ نے اپنی ناراضگیوں کو بھلا کر ہمارا جو ساتھ دیا ہے اسے میں زندگی بھر نہ بھلاسکوں گی۔۔۔
خالو جان نے شفقت سے لبنیٰ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔نہیں بیٹی یہ تو ہمارا فرض تھا، ہم تو صرف تمہارے سر پر سایہ بن کر کھڑے ہوئے تھے، اس کام کا سہرا تو صرف تمہارے اور تمہاری اماں کے سر ہے، جس نے اپنی بیٹی کو جہیز اتنا شاندار تیار کیا کہ ہر نظر تعریف کیئے بغیر نہ رہ سکی، مرنے والا بھی بڑی خوبیوں کا مالک تھا، پتا نہیں ہم سے ایسا کون سا گناہ ہوا تھا جو وہ ہم سے اس طرح روٹھ گیا کہ سارے راستے ہم پر بند ہوگئے، یہ تو بس تمہاری سعادت مندی ہے بیٹا جو تم نے ہمیں اتنی عزت سے نوازا، چلو اب یہ آنسو پونچھ ڈالو، پگلی کہیں کی۔۔۔سارے کام اتنی ذمہ داری کے ساتھ کرنے کے بعد اب بچوں کی طرح یہاں کھڑی آنسو بہارہی ہو، جاؤ، باہر جا کر اپنے مہمانوں کی پیٹ پوجا کا بندوبست کرو، اﷲ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے۔۔۔
لبنیٰ آنسو پونچھتی ہوئی کمرے سے باہر جانے لگی تو۔۔۔خالو جان نے کہا۔۔۔دیکھو بیٹی مہمانوں کے کھانے پینے کا خاص خیال رکھنا کوئی مہمان بھوکا نہ رہ جائے۔
لبنیٰ ، خالو جان کی بات سنکر کمرے سے باہر چلی گئی۔۔۔
خالو جان شازیہ کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔۔۔جیتی رہو بیٹی، جہاں رہو، آباد رہو۔۔۔
اور پھر بیگم عسکری نے اپنے آپ کو اتنا کنٹرول ک یا ہوا تھا کہ ہر کام بڑی ہمت سے انجام دے رہی تھیں۔۔۔مگر بیٹی کی رخصتی کا سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔۔۔خالو جان بیگم عسکری کو سمجھاتے ہوئے بولے۔۔۔بہن اس خوشی کے موقع پر یوں رونا دھونا اچھا نہیں، یہ تو خدا کا شکر ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تمہیں اس فرض سے بھی خیروخوبی سے عہدہ برآں کردیا، چلو اب بیٹی کو خوشی خوشی رخصت کرو۔
اسی دوران دولہا اپنے چند خاص دوستوں اور مہمانوں کے ساتھ دلہن کے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔اور پھر چند رسموں کے بعد دلہن شازیہ کو قرآن کے سائے میں رخصت کردیا گیا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *